❓ سوال
🏛️ حنفیکیا روزہ رکھنا فرض ہے؟
📗 شرعی حکم
🤖
AI-Assisted Islamic Jurisprudence ReviewThis answer is compiled via AI research referencing authentic Sunni fiqh literature and Diyanet standards. For binding personal legal verdicts, please consult official Islamic authorities.
یقیناً، میں آپ کے سوال کا جواب قرآن و سنت کی روشنی میں، حنفی مسلک کے مطابق دوں گا۔
روزہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے اور یہ ایک فرض عبادت ہے۔ اس لیے، ہر اس مسلمان کے لیے روزہ رکھنا فرض ہے جس کے پاس کوئی جائز عذر نہ ہو۔
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔" (سورہ البقرہ، آیت 183)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی متعدد احادیث مبارکہ میں روزے کی فرضیت کو بیان فرمایا ہے۔ مثال کے طور پر، جبرائیل علیہ السلام کے مشہور حدیث میں جب انہوں نے اسلام کے ارکان کے بارے میں پوچھا تو روزے کو بھی فرض کے طور پر ذکر کیا گیا تھا۔
لہذا، ہر عاقل، بالغ اور روزہ رکھنے کی استطاعت رکھنے والے مسلمان پر رمضان المبارک میں روزہ رکھنا واجب ہے۔ تاہم، بیماری، سفر، حمل یا رضاعت جیسے جائز عذر رکھنے والوں کے لیے روزے کو مؤخر کرنے یا فدیہ ادا کرنے جیسی رخصتیں بھی موجود ہیں۔ ان حالات کے لیے حنفی مسلک میں تفصیلی احکام موجود ہیں۔
✓ Scholarly Islamic Sources & Editorial Verification📅 Scholarly Verification Date: October 2026
Jurisprudential Methodology & Sources: This ruling is derived in accordance with authentic Quranic verses, Sahih Hadith collections, classical fiqh authorities (al-Mabsut, al-Hidayah, al-Umm, Radd al-Muhtar), and reputable international Islamic scholarly consensus, followed by thorough editorial review.
⚖️ For personal, disputed legal, marital, or complex financial matters, consulting a local qualified Islamic mufti or accredited council is advised.