❓ سوال
🏛️ حنفیسرکاری بینکوں کا سود حرام ہے؟
📗 شرعی حکم
🤖
AI-Assisted Islamic Jurisprudence ReviewThis answer is compiled via AI research referencing authentic Sunni fiqh literature and Diyanet standards. For binding personal legal verdicts, please consult official Islamic authorities.
محترم بھائی/بہن،
حنفی مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمان کی حیثیت سے، میں قرآن و سنت کی روشنی میں سرکاری بینکوں کے سود کے معاملے کے بارے میں آپ کے سوال کا جواب دینا چاہوں گا۔
اسلام میں سود (ربا) کو قطعی طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید کی بہت سی آیات میں سود سے دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، سورہ بقرہ کی آیت 275 میں ارشاد باری تعالی ہے: "اللہ نے خرید و فروخت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی احادیث مبارکہ میں سود لینے والے، دینے والے، لکھنے والے اور اس پر گواہی دینے والے سب پر لعنت فرمائی ہے۔ یہ عمومی حکم سرکاری بینکوں کے سود پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
حنفی مسلک میں سود کے حرام ہونے کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ سرکاری بینکوں کا کام اگرچہ تجارتی سرگرمی نظر آتا ہے، لیکن چونکہ ان کی بنیاد سود سے آمدنی حاصل کرنا ہے، اس لیے یہ جائز نہیں سمجھا جاتا۔
لہذا، حنفی مسلک کے مطابق، سرکاری بینکوں سے سود پر رقم لینا یا دینا حرام ہے۔ ایسے معاملات میں ملوث افراد کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو حلال راستوں کی طرف رجوع کریں۔
اللہ کی رضا حاصل کرنے کی راہ میں آپ کے اٹھائے جانے والے قدموں میں کامیابی کی دعا کرتا ہوں۔
✓ Scholarly Islamic Sources & Editorial Verification📅 Scholarly Verification Date: October 2026
Jurisprudential Methodology & Sources: This ruling is derived in accordance with authentic Quranic verses, Sahih Hadith collections, classical fiqh authorities (al-Mabsut, al-Hidayah, al-Umm, Radd al-Muhtar), and reputable international Islamic scholarly consensus, followed by thorough editorial review.
⚖️ For personal, disputed legal, marital, or complex financial matters, consulting a local qualified Islamic mufti or accredited council is advised.