❓ سوال

اللہ پر ایمان کیسا ہونا چاہیے؟

🏛️ حنفی
📗 شرعی حکم
🤖
AI-Assisted Islamic Jurisprudence ReviewThis answer is compiled via AI research referencing authentic Sunni fiqh literature and Diyanet standards. For binding personal legal verdicts, please consult official Islamic authorities.
پیارے بھائی، اللہ پر ایمان یہ ہے کہ بندہ بغیر کسی شک کے دل سے اللہ کے وجود، اس کی وحدانیت، اس کی صفات اور اس کے ناموں پر ایمان لائے اور عمل کے ذریعے اس کی تصدیق کرے۔ اہل سنت والجماعت کے عقیدے کے مطابق، جسے حنفی مسلک نے بھی اساس بنایا ہے، اللہ پر ایمان کے بنیادی اصول درج ذیل ہیں: 1. توحید (یکتائی): اس بات پر یقین رکھنا کہ اللہ اپنی ذات، صفات اور افعال میں ایک ہے، اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: "کہہ دو: وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ خود جنا گیا، اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔" (سورة الاخلاص، 1-4) 2. کامل صفات پر ایمان: اس بات کا یقین کرنا کہ اللہ تعالی ایسی ازلی اور ابدی صفات کا حامل ہے جو اس کی ذات کے لائق ہیں، جیسے حیات، علم، سمع (سننا)، بصار (دیکھਨਾ)، ارادہ، قدرت اور کلام، اور وہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے۔ 3. تصدیق اور تسلیم: دل سے تصدیق کیے گئے اس ایمان کو زبان سے اقرار کے ساتھ پختہ کرنا اور بندے کا اللہ کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ضروری ہے۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے 'حدیث جبریل' کے نام سے معروف روایت میں ایمان کی تعریف یوں فرمਾਈ ہے: "ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر، اور اس بات پر ایمان لائے کہ تقدیر (اچھی یا بری) اللہ کی طرف سے ہے۔" (مسلم، الایمان، 1) اللہ پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ خوف اور امید کے درمیان، اس طرح عبادت کے شعور کے ساتھ زندگی گزاری جائے گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اس کی رحمت کا سہارا لیا جائے۔ پروردگار ہمارے ایمان کو دائمی اور کامل بنائے۔
🏷️ اسلامی سوال و جواب:
#اللہ پر ایمان کیسے لائیں#توحید کیا ہے#اللہ کی صفات#اہل سنت عقیدہ#دل سے ایمان#ایمان اور عمل
✓ Scholarly Islamic Sources & Editorial Verification📅 Scholarly Verification Date: November 2026

Jurisprudential Methodology & Sources: This ruling is derived in accordance with authentic Quranic verses, Sahih Hadith collections, classical fiqh authorities (al-Mabsut, al-Hidayah, al-Umm, Radd al-Muhtar), and reputable international Islamic scholarly consensus, followed by thorough editorial review.

⚖️ For personal, disputed legal, marital, or complex financial matters, consulting a local qualified Islamic mufti or accredited council is advised.

🏛️ دارالافتاء و اسلامی علوم بورڈ📌 حنفی Esas Alınmıştır
Authentic fatwas and answers according to the Quran and Sunnah.

📚 متعلقہ فقہی سوالات اور فتاویٰ