❓ سوال: مجھے کتنی مقدار میں زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے؟
hanefiبسم اللہ الرحمن الرحیم۔ میرے محترم بھائی/بہن، زکوٰۃ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے اور مال کی پاکیزگی اور برکت کا ذریعہ ہے۔ فقہ حنفی کے مطابق زکوٰۃ کی مقدار اور احکام کا خلاصہ درج ذیل ہے: زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان اپنی بنیادی ضروریات اور قرضوں سے زائد، 'نصاب' کی مقدار کے برابر مال کا مالک ہو اور اس مال پر ایک قمری سال گزر چکا ہو۔ 1. زکوٰۃ کی مقدار: فقہ حنفی کی بنیادی کتابوں جیسے 'الہدایہ' اور ابن عابدین کی 'رد المحتار' میں مذکور ہے کہ زکوٰۃ کی شرح چالیسواں حصہ (2.5 فیصد) ہے۔ یعنی اگر آپ نصاب کے مالک ہیں تو آپ کو اس کا 1/40 حصہ مستحقین کو دینا ہوگا۔ 2. نصاب کی مقدار: نصاب وہ کم از کم مالیت ہے جس پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کے دور کے پیمانوں کے مطابق، سونے کا نصاب 20 مثقال (تقریباً 80.18 گرام) اور چاندی کا نصاب 200 درہم ہے۔ آج کل سونے کے حساب سے زکوٰۃ کا حساب لگانا سب سے عام اور قابل اعتماد طریقہ ہے۔ اگر آپ 80.18 گرام سونا یا اس کے مساوی نقدی، تجارتی سامان یا سیکیورٹیز کے مالک ہیں اور یہ مال ایک سال تک آپ کے پاس رہا ہے، تو 2.5 فیصد زکوٰۃ دینا فرض ہے۔ 3. دلائل: زکوٰۃ کی فرضیت قرآن کریم کی کئی آیات میں 'نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو' (البقرہ: 43، الحج: 78) کے حکم سے ثابت ہے۔ مقدار کے حوالے سے، نبی کریم ﷺ نے چاندی اور تجارتی سامان پر 1/40 کی شرح پر عمل کیا اور اس کی ترغیب دی (بخاری، زکوٰۃ، 32)۔ 4. فقہی مذاہب کے مابین مختصر نوٹ: جمہور علمائے اسلام (حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی) کا اس بات پر اجماع ہے کہ زکوٰۃ کی شرح 1/40 (2.5 فیصد) ہے۔ مذاہب کے درمیان بنیادی اختلافات زکوٰۃ کے قابلِ مال کی اقسام یا نصاب کے حساب کتاب کی تکنیکی تفصیلات پر ہیں، لیکن شرح کے بارے میں چاروں مذاہب میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ آپ پر لازم ہے کہ اپنی بنیادی ضروریات سے زائد جو مال ایک سال تک آپ کے پاس رہا ہو، اس کا 1/40 حصہ نکال کر اللہ کی رضا کے لیے مستحقین تک پہنچائیں۔ اللہ آپ کی عبادات قبول فرمائے اور آپ کے مال میں برکت عطا کرے۔