❓ سوال
🏛️ hanefiسوال: کیا آپ ایمان کے ارکان کی وضاحت کر سکتے ہیں؟
📗 شرعی حکم
میرے محترم بھائی، اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو ایمان کے نور سے منور فرمائے اور ہمیں استقامت پر ثابت قدم رکھے۔ دین اسلام کی بنیاد ایمان کے ارکان کو، حنفی مسلک کے عقائدی خط یعنی ماتریدیہ اور ہماری کلاسیکی فقہی کتب کی روشنی میں یوں خلاصہ کیا جا سکتا ہے: ایمان لغوی طور پر تصدیق کرنے، بھروسہ کرنے اور سپردگی کے معنی میں ہے۔ اصطلاح میں، اس کا مطلب ہے کہ نبی کریم ﷺ جو کچھ اللہ کی طرف سے لائے ہیں، اسے دل سے ماننا اور زبان سے اقرار کرنا۔ ایمان کے چھ ارکان: جیسا کہ قرآن کریم (البقرہ: 285، النساء: 136) اور حدیثِ جبرائیل میں ذکر ہے، ایمان کے چھ ارکان ہیں: 1. اللہ پر ایمان: اللہ کے وجود، وحدانیت، اس کے کوئی شریک نہ ہونے اور تمام کمالات کے ساتھ متصف ہونے پر یقین رکھنا۔ 2. فرشتوں پر ایمان: اللہ کی نورانی مخلوق پر یقین رکھنا جو گناہ نہیں کرتے اور صرف اس کی عبادت کرتے ہیں۔ 3. کتابوں پر ایمان: اللہ کی نازل کردہ کتابوں پر ایمان لانا۔ قرآن کریم ان میں آخری اور محفوظ کتاب ہے۔ 4. رسولوں پر ایمان: اللہ کے چنے ہوئے رسولوں پر ایمان لانا۔ پہلے حضرت آدمؑ اور آخری حضرت محمد ﷺ ہیں۔ 5. آخرت پر ایمان: قیامت کے آنے، لوگوں کے اٹھائے جانے، حساب کتاب اور جنت و جہنم کے برحق ہونے پر یقین رکھنا۔ 6. تقدیر پر ایمان: اس بات پر یقین رکھنا کہ خیر و شر سب کچھ اللہ کے علم، ارادے اور تخلیق سے ہوتا ہے۔ کلاسیکی ذرائع اور حنفی نقطہ نظر: امام ابوحنیفہ کی 'فقہ اکبر' ہمارا بنیادی حوالہ ہے۔ حنفی فقہ میں ایمان کی ماہیت یوں بیان کی گئی ہے: ایمان کے ارکان: حنفی علماء کے نزدیک ایمان کی اصل 'دل سے تصدیق' ہے۔ زبان سے اقرار دنیاوی احکام کے نفاذ کے لیے شرط ہے۔ جیسا کہ مرغینانی کی 'ہدایہ' اور ابن عابدین کی 'رد المحتار' میں مذکور ہے، گونگے جیسے عذر کے بغیر زبان سے اقرار دنیاوی احکام کے لیے ضروری ہے۔ عمل اور ایمان کا تعلق: حنفی مسلک کے مطابق عمل ایمان کا حصہ (رکن) نہیں ہے۔ لہذا، ایک مسلمان عبادات میں کمی کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، بلکہ وہ گناہگار مومن کہلاتا ہے۔ یہ شافعی اور مالکی مسالک سے بنیادی اختلاف کا نقطہ ہے۔ ان کے نزدیک عمل ایمان کے کمال کا حصہ ہے اور ایمان کم یا زیادہ ہو سکتا ہے۔ حنفیوں کے نزدیک ایمان کی اصل (تصدیق) کم یا زیادہ نہیں ہوتی، البتہ یقین اور قوت میں فرق ہو سکتا ہے۔ فقہی اختلافات کا مختصر ذکر: تمام اہلسنت مذاہب (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) ایمان کے چھ ارکان پر متفق ہیں۔ بنیادی اختلاف ایمان کی تعریف اور عمل کے اس میں شامل ہونے یا نہ ہونے پر ہے۔ جیسا کہ امام نووی نے 'المجموع' میں ذکر کیا ہے، شافعیہ عمل کو ایمان کا حصہ مانتے ہیں، اس لیے ان کے نزدیک 'ایمان عبادت سے بڑھتا اور گناہ سے گھٹتا ہے'۔ حنفیہ ایمان کو ایک اٹل تصدیق مانتے ہیں، اس لیے وہ کہتے ہیں کہ یہ اپنی اصل میں تبدیل نہیں ہوتا۔ سلام اور دعا کے ساتھ۔